Muslim Elders

بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر، مسلم کونسل آف ایلڈرز بچوں کو استحصال سے بچانے اور ان کے لیے تعلیم اور محفوظ نشوونما کے حق کو یقینی بنانے کی اپیل کرتی ہے۔

بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو استحصال سے بچانا اور ان کے لیے تعلیم، نگہداشت اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا ایک مستحکم اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، واضح کیا کہ بچوں کو معاشی استحصال اور ہر قسم کی زیادتی سے بچانا ایک مشترکہ انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور مقامی معاشروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو تعلیم، نگہداشت، تحفظ اور ایک محفوظ و باعزت ماحول میں نشوونما کے بنیادی حقوق حاصل ہو سکیں۔

عالمی یومِ انسدادِ مشقتِ اطفال کے موقع پر جو ہر سال 12 جون کو منایا جاتا ہے کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کی مشقت صرف ان کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کی خلاف ورزی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو تعلیم اور ترقی کے مواقع سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچے جسمانی، ذہنی اور سماجی خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں، جن کے اثرات ان کے اور ان کے معاشروں کے مستقبل تک پہنچتے ہیں۔

کونسل نے مزید کہا کہ دینِ اسلام اور دیگر آسمانی مذاہب، نیز بین الاقوامی قوانین اور معاہدات، انسان کی عزت کی حفاظت اور بچوں کی نگہداشت کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ ان سب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بچوں کی پرورش، تعلیم اور تربیت کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی معاشرتی اور قومی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ مجلس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بچوں کی مشقت کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور اس کے اسباب -خصوصاً معاشی و سماجی مسائل- کا مؤثر حل نکالا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار مستقبل بنایا جا سکے۔
کونسل نے یہ بھی یاد دلایا کہ انسانی بھائی چارے کے چارٹر (دستاویزِ اخوتِ انسانی) – جس پر 2019 میں ابوظہبی میں فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف اور سابق پوپ فرانسس نے دستخط کیے تھے- اس امر پر زور دیتا ہے کہ بچوں کے بنیادی حقوق-جیسے خاندانی پرورش، مناسب غذا، تعلیم اور نگہداشت-خاندان اور معاشرے دونوں کی اخلاقی ذمہ داری ہیں۔ یہ حقوق ہر بچے کو فراہم کیے جانے چاہئیں، اور ان سے محرومی یا بچوں کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے والی ہر عمل کی مذمت کی جانی چاہیے۔
آخر میں مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انسانیت کے مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری بچوں کے تحفظ، ان کی بااختیاری اور انہیں تعلیم، نگہداشت اور باعزت زندگی فراہم کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ یہی اقدامات ایسے معاشروں کی بنیاد رکھتے ہیں جو امن، استحکام، خوشحالی اور پائیدار ترقی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔