مملکت بحرین آج بروز منگل مسلم کونسل اف ایلڈرز اور ویٹیکن کے درمیان قائمہ کمیٹی برائے اسلامی عیسائی مکالمے کے پہلے اجلاس کی میزبانی کرے گی۔
اسلامی عیسائی مکالمے کے لیے مستقل کمیٹی، جو مسلم کونسل اف ایلڈرز(جس کا ہیڈ آفس ابوظہبی میں ہے) اور ویٹیکن کے بین المذاہب مکالمے کے درمیان ایک مشترکہ یادداشت کے تحت قائم کی گئی تھی۔ جو بحرین فورم براۓ مکالمہ: مشرق و مغرب برائے انسانی بقائے باہمی کے نتائج میں سے ایک، جو کہ گزشتہ نومبر میں مملکت بحرین میں امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز اور پوپ فرانسس، ویٹیکن کے پوپ، کے تاریخی سرکاری دورے کے موقع پر منعقد ہوا۔ مملکت بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ ال خلیفہ کی دعوت پر۔
اس اجلاس کا مقصد دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مکالمے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں اور اقدامات کو مربوط کرنا اور اسلامی عیسائی مکالمے کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے، جو بقائے باہمی کی ایک طویل تاریخ پر مبنی ہے اور بحرین فورم براۓ مکالمہ میں جس پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ مشترکہ منصوبوں کی حمایت میں انسانی بقائے باہمی کے لیے مشرق اور مغرب، اسلام اور عیسائیت کے درمیان عالمی سطح پر مکالمے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے۔
مسلم کونسل اف ایلڈرز میں مملکت بحرین کی نمائندگی عزت مآب شیخ عبدالرحمٰن بن محمد بن راشد آل خلیفہ، سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے چیئرمین کرتے ہیں۔ جہاں مسلم کونسل اف ایلڈرز امن کو فروغ دینے اور مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بالعموم اور اسلام اور عیسائیت کے درمیان بالخصوص مکالمے کو پھیلانے کے میدان میں کئی اہم اقدامات اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کرتی ہے۔
اورامام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز،اور پوپ فرانسس، ویٹیکن کے پوپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان کی فراخدلانہ سرپرستی میں 2019 میں ابوظہبی میں انسانی بھائی چارے کی دستاویز پر دستخط کیے تھے جو جدید دورمیں بین المذاہب مکالمے کی تاریخ میں سب سے اہم دستاویز ہے ۔
