Muslim Elders

امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، جشن میلاد النبی کے موقع پر کہا: ” مدرسه نبوت محمدیہ کی تعلیمات نجات کا واحد راسته ہیں۔ "

muslimelderspakistan

امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، جشن میلاد النبی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کو آج نبی محمّد صلی الله علیہ وسلم کی هدايت اور دوسرے انبیاء و رسولوں کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے – سب انبیاء پرالله تعالیٰ کا درود و سلام ہو۔

کیوںکہ دنیا عصر حاضر کی تقریباً چار صدیوں تک امن کے قیام اور جنگوں کے خاتمے کے اپنے چمکدار وعدوں پر قائم رہنے والی شرطیں ہارنے کے بعد، اگر انسانیت نے اس میں وہ مادی ترقی حاصل کر لی جو تاریخ کے آغاز سے لے کر آج تک حاصل نہیں کر پائی ہے۔ اور اس کی مادی دوڑ میں، معنویت اور اخلاقی اقدار اور اخلاقی قواعد میں بے پناہ خالی پن کا شکار رہی ہے- اور اب بھی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بحران عام طور پر ایک اخلاقی بحران بن گیا ہے-

امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، جشن میلاد النبی کے موقع پر اپنے خطاب میں متنبہ کیا کہ ہمدردی کا اصول آج انسان کا پہلا خساره ہے جو آج انسانوں نے کھو دیا ہے- اور انسان خود غرضی اور خود غرضی کے بتوں کی عبادت کرنے کی طرف دوڑتا ہے۔ اور انسان کی معبودیت، اس کی اپنی خواہشات اور جسمانی خواہشات کا اظہار، مذہب کے کنٹرول اور اعلیٰ اخلاق کی پابندیوں سے اس کی آزادی، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ پیسے کی فراوانی، معیشت کی مضبوطی اور اسلحے کی تجارت یہ پیمانہ بن گئی ہے اور اچھائی کو برائی اور نیکی کو بدي سے تمیز کا کوئی دوسرا معیار نہیں۔ بلکہ ہماری دنیا کے تنازعات، جدوجہد اور جنگوں کے ڈھول بجایا جائے – الله نہ کرے- تو یہ وہ فیصلہ بن چکا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا جو آج کی تہذیب کو شاید -راتوں رات – قبل از قرون وسطیٰ کی تہذیب کی طرف لوٹا دے گا۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے چیئرمین نے افراد اور معاشروں کی زندگیوں کو مستحکم کرنے میں ہمدردی کے اصول کی بنیادی اہمیت کی طرف اشارہ کیا۔ اور کہا کے جسے ہم آج ڈھونڈ رہے ہیں جیسے ایک نابینا آدمی اندھیرے کمرے میں کالی ٹوپی تلاش کرتا ہے-

یہ اس مہكتي سیرت کے مالک کی سب سے خاص خصوصیت ہے، صلی الله علیہ وسلم ۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اپ صلی الله علیہ وسلم کی "رحمت” کے مظاہر کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ اپ صلی الله علیہ وسلم کی رحمت کا تاریخ پربہت بڑھا فضل ہے جب اپ صلی الله علیہ وسلم کو اسلام کا پیغمبر بنا کر بیجھا گیا تو ایسی قوموں کو بچایا جو مرنے یا خودکشی کرنے کے دہانے پر تھیں۔

اور امام الطیب نے واضح کیا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جو کمزور تھے اور ان کے علاوہ جو لوگ کمزور تھے وہ آپ کی رحمت، شفقت اور فکر کے سب سے زیادہ مستحق تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں کواپنے خادموں کی خدمت کرنے کی تلقین کرتے تھے اور فرماتے تھے: "جو کچھ تم کھاتے ہو اسے کھلاؤ، اورجو کپڑے پہنتے ہو انھے پہناؤ، اور خدا کی مخلوق کو اذیت نہ دو۔”

اس کے ساتھ ساتھ اپ صلی الله علیہ وسلم کی یتیموں کے ساتھ ہمدردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلے میں ابدی حکمت ہے، جو کہ یہ ہے: ’’مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کا سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جائے‘‘۔

اور امام الطیب نے اپ صلی الله علیہ وسلم کی غریبوں اور مسکینوں کے لیے اپنی محبت، کی وضاحت کی اور کہا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم نے بہت زیادہ دیکھ بھال اور ہمدردی ان کے لیے وقف کر دی۔ اور اپ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: "اے اللہ مجھے مسکین کی زندگی دے، مجھے مسکین کی حالت میں موت دے، اور قیامت کے دن مجھے مسکینوں میں زندہ کر”۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سربراہ نے مزید کہا کہ کمزور مخلوقات کو ان سے خطرہ ٹلنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے محروم نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے، تو آپ کے ایک ساتھی نے ان دو چوزوں کو لے لیا اور چڑیا نے اپنے پنکھ مارنا شروع کردیے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اس چڑیا کو اس کے بچے سے کس نے ستایا؟ اس کے بچے اس کے پاس لوٹا دو۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: "جس نے ماں اور اس کے بچے کو جدا کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اور اس کے پیاروں کو جدا کر دے گا۔”

اختتم الإمام الطيب كلمته -بمناسـبة: «الاحتفــال بذكرى المولـد النبـوي الشــريف» 2022م- بالتشديد على أن المعارف والتعاليم الإلهية والخلقية والتشريعية التي تزخرُ بها مدرسة النبوة المحمدية، هي خريطة النجاة للعرب وللمسلمين في معركتهم الحضارية اليوم، وفي صياغتهم لمجتمعاتٍ معاصرةٍ، صياغة قوامها التقدم الخلقي جنبًا إلى جنب التقدم العلمي والتقنيِّ

امام الطیب نے جشن میلاد النبی 2022 کے موقع پر اپنے بيان کے اختتام پراس بات پر زور دیا کہ الہٰی، اخلاقی اور تشريعى تعلیمات جن سے مدرسہ نبوت محمدیہ مالا مال ہے وہی آج عربوں اور مسلمانوں کے لیے ان کی تہذیبی جنگ میں نجات کا منصوبہ ہے اور ان کے عصری معاشروں کی تشکیل میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ترقی پر مبنی ایک تشکیل ہے۔