مسلم کونسل آف ایلڈرز فضیلت مآب إمام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندی، نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر اکسانے کی تمام صورتوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے، اور خبردار کرتی ہے کہ یہ رجحان پُرامن بقائے باہمی، سماجی امن اور عالمی استحکام کی اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے 15 مارچ کو منائے جانے والے اسلام سے نفرت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے بیان میں عالمی سطح پر ایک ہمہ گیر مہم کے آغاز کا مطالبہ کیا، جو انتہاپسندانہ، نفرت انگیز اور مذہبی امتیاز پر مبنی خطابات کا مقابلہ کرے۔ نیز نفرت اور مذہبی امتیاز کے انسداد کے لیے واضح قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل، باہمی احترام، ثقافتی و مذہبی تنوع کی اقدار کے فروغ، اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں آگاہی پھیلانے پر زور دیا، تاکہ اسلام کو رحمت، عدل اور امن کے دین کے طور پر متعارف کرایا جا سکے، جو انسانی وقار اور امن و سلامتی کے ساتھ جینے کے حق کی توثیق کرتا ہے۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ اسلاموفوبیا محض انفرادی رویّوں یا انتہاپسندانہ بیانیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک خطرناک مظہر ہے جو جہالت اور غلط تصورات پر پروان چڑھتا ہے، اور جسے بعض انتہاپسند دائیں بازو کے گروہ اپنے محدود سیاسی اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تقسیم اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اس رجحان کا مؤثر مقابلہ حکومتوں، مذہبی، تعلیمی اور میڈیا اداروں کی مشترکہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں، تاکہ باہمی احترام کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے اور شہریت، تنوع اور دوسرے کو قبول کرنے کی اقدار کو مضبوط بنایا جا سکے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز دینِ اسلام کی رواداری اور اعتدال پسند، روشن فکرانہ سوچ کے فروغ کے لیے مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاکہ تعصب، انتہاپسندی، نسل پرستی، نفرت اور امتیاز کی تمام صورتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے متعدد مؤثر منصوبوں اور اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے، جن میں مشرق و مغرب کے درمیان مکالماتی دورے، بین الاقوامی امن قافلے، امن ساز نوجوان فورم، انسانی اخوت کے فروغ کے لیے طلبہ مکالماتی پروگرام، اور دنیا کے مختلف خطوں میں رمضان مشنز شامل ہیں۔
بیان میں دستاویزِ اخوتِ انسانی کا بھی حوالہ دیا گیا، جس پر 2019 میں ابو ظبی میں فضیلت مآب إمام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف،چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور پوپ فرانسس، سابق سربراہِ کیتھولک چرچ، نے دستخط کیے تھے۔ اس دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے- چاہے وہ عقیدے، فکر، اظہار یا مذہبی عمل کی آزادی ہو۔ نیز مذہب، رنگ، جنس، نسل اور زبان میں تنوع اور اختلاف ایک الٰہی حکمت کا حصہ ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اور یہ آزادیٔ عقیدہ، آزادیٔ اختلاف کی بنیاد ہے، جبکہ کسی شخص کو کسی مخصوص دین، ثقافت یا تہذیبی انداز کو زبردستی قبول کرانے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
